بات کا سچا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - قول کا دھنی، وعدے میں اٹل۔ "تم بھی اپنی بات کے بڑے سچے ہو۔" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١١١ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بات' اور اسم صفت 'سچا' کے درمیان کلمۂ اضافت لگنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٠٢ء میں "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قول کا دھنی، وعدے میں اٹل۔ "تم بھی اپنی بات کے بڑے سچے ہو۔" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١١١ )
جنس: مذکر